ابنا: مصر کے ذرائع نے بتايا ہے کہ جمعے کے روز سيکورٹي اہلکاروں نے مظاہرين پر شديد حملے کئے جس کے نتيجے ميں آٹھ افراد ہلاک اور چار سو ديگر زخمي ہو گئےـ
مظاہرين وزيراعظم کے دفتر کے سامنے دھرنے پر بيٹھے ہوئے تھے کہ ان پر سيکورٹي اہلکاروں اور فوجيوں نے حملہ کياـ مظاہرين پر حملہ ہونے کے بعد بڑي تعداد ميں لوگ سڑکوں پر نکل پڑے اور فوجي حکومت کي مذمت ميں نعرے لگانے لگے -جھڑپ اس وقت شروع ہوئي جب فوجيوں نے مظاہرين کو منتشر کرنے کي کوشش شروع کي ـ قاہرہ ميں مظاہرين پر سيکورٹي فورس اور فوج کے حملے کے خلاف ساحلي شہر اسکندريہ ميں عوام نے شديد احتجاج کيا ہے مصر کي اخوان المسلمين تنظيم نے مظاہرين پر حملے کو جرم قرار ديا ہےـ
تنظيم نے جمعے کي شب ايک بيان ميں کہا ہے کہ حکمراں فوجي کونسل کو چاہئے کہ عوام کے قتل عام پر معافي مانگےـ
اخوان المسلمين نے قاہرہ کي جھڑپوں کي تحقيقات کے لئے کميٹي تشکيل دينے پر زور ديتے ہوئے کہا ہے کہ قاتلوں کي شناخت کرکے ان پر مقدمہ چلايا جانا چاہئے اور نومبر مہينے ميں بھي مارے گئے پينتاليس افراد کے قاتلوں کو سامنے لانے کے لئے تحقيقات کرائي جاني چاہئےـ
اخوان المسلمين نے جون دو ہزار بارہ تک صدارتي انتخابات کے عمل کو مکمل کر لئے جانے کي ضرورت پر بھي زور ديا اور کہا ہے کہ آئندہ سال جون کے اختتام تک فوجي کونسل اقتدار سياسي جماعتوں کے حوالے کر دےـ
تنظيم نے اپنے بيان ميں کہا ہے کہ جب بھي حالات پر سکون ہوتے ہيں اور جمہوريت کے قيام کے لئے زمين ہموار ہوتي ہے کچھ لوگ فوجيوں سے سياسي جماعتوں کو اقتدار کي منتقلي ميں رخنہ ڈالنے کے لئے شر پسندانہ اقدامات شروع کر ديتے ہيں اور حکمراں فوجي کونسل کے بعض ارکان بھي غير جمہوري بيانات ديتے ہيں ـ
اخوان المسلمين نے کہا ہے کہ پر امن مظاہرے کرنا عوام کا حق ہے اور نئے وزيراعظم کمال الجنزوري نے بھي وعدہ کيا تھا کہ سيکورٹي اہلکار مظاہرين پر ايک گولي بھي نہيں چلائيں گے ليکن جمعے کي جھڑپيں اس کي واضح مخالفت ہےـ
اخوان المسلمين نے کہا کہ جمعے کي جھڑپوں سے ثابت ہو گيا کہ کچھ عناصر نہيں چاہتے کہ انتخابات کا پر امن انعقاد ہو اور انقلاب اپنے راستے پر آگے بڑھے-
...........
/169